Documento - Amnesty International Report 2013: Pakistan

پاکستان

پاکستان

اسلامی جمہوریہ پاکستان

ریاستی سربراہ: آصف علی زرداری

حکومتی سربراہ: راجہ پرویز اشرف (جون میں یوسف رضا گیلانی کی جگہ لی)

پاکستانی طالبان کی جانب سے حقوق انسانی کی نوجوان کارکن پر اکتوبر میں جان لیوا کوشش نے بتا دیا کہ ملک میں حقوق انسانی کے کارکنوں اور صحافیوں کو کتنے سنگین خطرات درپیش ہیں۔ مذہبی اقلیتوں پر منظم حملے ہوئے، جہاں مسلح گروہوں نے نشانہ بنا کر حملے کیے اور دینی رہنماؤں نے ان کے خلاف تشدد پر اُکسایا۔ مسلح افواج اور مسلح گروہوں نے قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان میں خلاف ورزیاں بدستور جاری رکھیں جس میں جبری گمشدگیاں، اِغوا، تشدد اور غیرقانونی ہلاکتیں شامل ہیں۔ عدالتوں نے کامیابی کے ساتھ حکام کو جبری گمشدگی کے مٹھی بھر متاثرین کو اپنے سامنے پیش کروایا، لیکن اس میں ملوث افراد کو منصفانہ عدالتی کارروائی کے ذریعے سزائیں دلاوانے میں ناکام رہیں۔ نومبر میں حکام نے سال دو ہزار آٹھ کے بعد سے پہلی مرتبہ کسی کو سزائے موت دی۔ صحت کے عملے پر حملوں نے دور افتادہ اور شورش زدہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں تک رسائی کو قابل ذکر حد تک متاثر کیا۔ پارلیمان نے بلترتیب فروری اور مارچ میں عورتوں اور حقوق انسانی سے متعلق دو مختلف کمشنز کے قیام کے قانون کی منظوری دی۔

پس منظر

پاکستان کئی سیاسی بحرانوں سے دوچار رہا جس میں فوج، عدلیہ اور منتخب حکومت کئی مسائل پر الجھے رہے، جس میں بدعنوانی سے متعلق تحقیقات بھی شامل ہیں۔ انیس جون کو سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب پاتے ہوئے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس اقدام سے عدلیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت واضح ہوئی۔ تئیس ستمبر کے ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے خواجہ سراوں کو آئین کے تحت دیگر شہریوں کے برابر حقوق دینے کا حکم دیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سینکڑوں قیدیوں کا تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان مئی میں کونسلر تعلقات سے متعلق وسیع معاہدے کے تحت ہوا جس سے دونوں کے درمیان تعلقات کی بہتری ظاہر ہوئی۔ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ”نشانہ بنا” کر نامعلوم تعداد میں عام شہریوں، جن میں بچے بھی شامل تھے، ہلاک یا زخمی کیا گیا۔ (امریکہ سے متعلق انٹری دیکھیں)۔ اختتام سال تک پاکستان کے اپنے بڑے بیرونی اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی۔

پاکستان نے جنوری میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی دو سالہ رکنیت کا آغاز کیا۔ تیرہ برسوں میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کئی ماہرین نے ملک کے دورے کئے۔ ان میں مئی میں ججوں اور وکلاء کی آذادی کے لیے خصوصی راپوٹئیر، جون میں حقوق انسانی کے ہائی کمشنر، اور ستمبر میں جبری گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کے دورے شامل ہیں۔ پاکستان کا حقوق انسانی کے ریکارڈ کا اقوام متحدہ کے پیریاڈک ریویو کے تحت اکتوبر میں جائزہ لیا گیا، جن میں حقوق انسانی کے متعدد مسائل جیسے کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم، سزائے موت کے خاتمے کی جانب پیش رف ت اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے جیسے مسائل اٹھائے گئے۔ بارہ نومبر کو پاکستان تیسری مرتبہ اقوام متحدہ کی حقوق انسانی سے متعلق کونسل کا رکن منتخب ہوا۔

سکیورٹی فورسز کی خلاف ورزیاں

سکیورٹی فورسز بغیر کسی روک ٹوک کے کارروائیاں کرتی رہیں جس کی وجہ سے ان پر وسیع پیمانے پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کئے جاتے رہے۔ ان پر صوابدیدی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، تشدد، دوران حراست ہلاکت اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور مسلح گروپوں کے مشتبہ اراکین کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات شامل ہیں۔ شمال مغربی قبائلی علاقوں میں مسلح افواج نے نئے اور پرانے سکیورٹی قوانین کا سہارا لیتے ہوئے ان خلاف ورزیوں کو عدالتوں سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

٭جون میں حقوق انسانی کی علمبرداراور وکیل عاصمہ جہانگیر کو قتل کرنے کی شازش بےنقاب ہونے کے بعد حکام نے اضافی سکیورٹی تو فراہم کی لیکن وہ بظاہر ان دعووں کی تحقیقات کہ فوجی حکام نے ”اعلی ترین سطح” پر اس کی منظوری دی تھی تحقیقات یا تو کر نہیں سکے یا کرنا نہیں چاہتے تھے۔

غیرقانونی ہلاکتیں

سینکڑوں غیرقانونی قتل، جن میں دوران حراست ماورائے عدالت قتل اور ہلاکتیں شامل ہیں رپورٹ ہوئیں۔ یہ شمال مغربی قبائلی علاقوں، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں زیادہ عام تھیں۔

٭سال کے دوران کئی مواقعوں پر پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے اردگرد پھینکی جانے والی سو سے زائد لاشوں کے واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا۔

٭ سندھی سیاسی جماعت کے رہنما مظفر بھٹو حیدرآباد، سندھ کے قریب بخاری گاؤں سے بائیس مئی کو مردہ حالت میں ملے۔ انہیں پندرہ ماہ قبل سادہ کپڑوں میں پولیس کے ساتھ آنے والے افراد نے اِغوا کیا تھا۔ ان کے جسم پر اطلاعات کے مطابق تشدد اور گولیوں کے نشانات تھے لیکن کسی کو ان کے اِغوا یا ہلاکت کے جرم میں سزا نہیں دی جاسکی ہے۔

جبری گمشدگیاں

سپریم کورٹ کو جبری گمشدگی کے شکار بعض افراد تک غیرمعمولی رسائی سال بھر فراہم کی گئی۔ ان میں ”اڈیالہ گیارہ” میں سے بچ جانے والے سات افراد کے علاوہ بلوچستان سے بھی کئی شامل تھے۔ چیف جسٹس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بلوچستان میں گرفتاریوں اور حراستوں سے متعلق قانون جواز پیش نہ کرنے پر گرفتاری کی دھمکی دی جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے حکام پر شمال مغربی قبائلی علاقوں میں حراست میں رکھے جانے والے افراد کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے دباو بنائے رکھا۔ البتہ جبری گمشدگیوں کی اطلاعات ملک بھر خصوصا صوبہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں سے ملتی رہیں۔ کسی بھی حاضر یا ریٹائرڈ سکیورٹی اہلکار کو ان اور دیگر مبینہ خلاف ورزیوں کی پاداش میں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ اقوام متحدہ کے جبری کمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ نے پہلی مرتبہ ملک کا دورہ سمتبر میں کیا لیکن کلیدی اہلکاروں نے ان سے ملنے سے انکار کیا۔ ان میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات سے متعلق کمشن کے سربراہ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، اکثر ہائی کورٹس اور سینئر سکیورٹی اور فوجی نمائندے شامل تھے۔

٭ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما سنگت ثناء کی لاش تربت، بلوچستان کے نواح سے تیرہ فروری کو ملی۔ دو سال سے بھی زائد عرصہ قبل انہیں کوئٹہ سندھ شاہراہ پر بولان پاس کے مقام پر پولیس چوکی پر سادہ کپڑوں میں ملبوث افراد نے حراست میں لیا تھا۔

مسلح گروہوں کی خلاف ورزیاں

پاکستانی طالبان، لشکر جھنگوی، بلوچستان لیبریشن آرمی اور دیگر مسلح گروہوں نے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے علاوہ مذہبی اقلیتوں، امدادی کارکنوں، کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے خودساختہ دھماکہ خیز آلات اور خودکش حملوں کی مدد سے بلاتفریق حملے کئے۔

٭ پاکستانی طالبان نے امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں میں ”ٹارگٹّڈ کلنگ” کے پروگرام کو بند کرنے تک صحت کے کارکنوں پر پابندی عائد کر دی۔ آئی سی آر سی کی ایک نرس اپریل میں ہلاک بھی کر دی گئی۔ نو افراد پر مشتمل صحت کے عملے کو جس میں اکثریت عورتوں کی تھی پولیو مہم کے دوران شمال مغرب میں پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ جبکہ جنوبی شہر کراچی میں دسمبر میں تین روز کے دوران منظم حملوں میں ہلاک کیا گیا۔

٭ لشکر جھنگوی نے شیعہ مسلمانوں کی کوئٹہ سے ایران جانے والی ایک بس پر اٹھائیس جون کو حملہ کر کے کم از کم چودہ افراد کو قطار میں کھڑا کرکے قتل کر دیا۔ اس نے اس واقع کی ذمہ داری قبول کی۔ یہی گروہ پاکستان بھر میں کم از کم آٹھ ایسے حملوں کا ذمہ دار تھا جس میں انچاس لوگ ہلاک ہوئے۔

٭عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما بشیر احمد بلور اور آٹھ دیگر افراد کو بائیس دسمبر کو پشاور میں ایک سیاسی اجتماع سے واپسی پر پاکستانی طالبان نے خودکش حملے میں ہلاک کر دیا۔

آذادی اظہار

صحافی ریاستی سکیورٹی فورسز، مسلح اپوزیشن اور دیگر گروہوں خصوصا بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں اور شمال مغربی قبائلی علاقوں میں شدید خطرے میں رہے۔ سال بھر میں کم از کم آٹھ صحافی قتل کئے گئے۔ کئی صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں فوج، سیاسی جماعتوں اور مسلح گروہوں پر لکھنے کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا رہا۔

٭صحافی مکرم عاطف کو چارسدہ شہر میں سترہ جنوری کو ایک مسجد میں نماز کے دوران گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ اس سے قبل وہ اپنے آبائی علاقے مہمند ایجنسی سے پاکستانی طالبان کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد منتقل ہوگئے تھے۔ طالبان نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

٭ انیس مئی کو ایکسپریس نیوز ٹی وی کے نامہ نگار رزاق گل کی گولیوں سے چھلنی لاش تربت، بلوچستان کے مضافات سے ملی۔ انہیں ایک روز قبل اِغوا کیا گیا تھا۔ حکام اس واقع میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔

٭ سینئر براڈکاسٹر حامد میر نومبر میں جان لیوا حملے میں بال بال اس وقت بچ گئے جب ان کی گاڑی کے نیچے نصب بم پھٹ نہ سکا۔ پاکستانی طالبان نے اس کوشش کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حکومت نے وقتا فوقتا فیس بک اور یو ٹیوب جیسی ویب سائٹس تک بغیر کسی وجہ کہ یا پھر مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے مواد کو وجہ بنا کر رسائی بند کر دی۔ عدالتوں نے صحافیوں کے خلاف عدلیہ پر تنقید کرنے پر توہین عدالت کے قانون کے تحت عدالتی کارروائی کی دھمکیاں دیں۔

امتیازی سلوک – مذہبی اقلیتیں

احمدی، ہندو اور مسیحی برادری اپنی مذہبی اعتقاد کی بنیاد پر تشدد اور دھونس کے شدید خطرے سے دوچار رہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ حملے شیعہ افراد پر ہوئے جن کی تعداد اناسی رہی۔ مذہبی اقلیت کی مناسب نمائندگی ان واقعات میں نہیں ہوسکی جہاں لوگوں نے توہین رسالت کے مبہم قانون کا سہارا لیا۔

٭ گلگت بلتستان کے شمالی علاقے نے غیرمعمولی فرقہ ورانہ تشدد برداشت کیا۔ حکام اپریل میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ستر سے زائد ہلاکتوں میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہے۔

٭ چار جولائی کو چنی گوٹھ، پنجاب میں ایک ہجوم نے پولیس تھانے میں زیرحراست شخص کو مار پیٹ کر اور پھر آگ لگا کر مار دیا۔ اس پر قرآن کی مبینہ طور پر بےحرمتی کا الزام تھا۔

٭ بیس نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے رمشہ مسیح کو، جسے اگست میں پولیس نے عوامی دباؤ میں آکر قرآن کے صفحات جلانے کے مبینہ الزام میں حراست میں لے لیا تھا رہا کرنے کا حکم دیا۔ ستمبر میں مسجد کے امام پر مبینہ طور پر اس لڑکی کے خلاف جعلی ثبوت تیار کرنے پر الزام عائد کر دیا۔ رمشہ کی رہائی جلد عدالتی فیصلے کی ایک نادر مثال تھی جس میں عدالت نے کھل کر اس کے خلاف الزامات پر تنقید کی۔

٭ حکام نے مذہبی گروہوں کو احمدیوں کو عبادت گاہوں میں داخلے سے روکنے کی اجازت دی۔ تین دسمبر کو لاہور کے ایک قبرستان میں احمدیوں کی سو قبروں کی بےحرمتی کی۔

٭ ریاست بلوچستان کی شیعہ ہزارہ قوم کو صوبے میں فوج کی بھاری موجودگی کے باوجود مسلح گروہوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی۔ اس کے نتیجے میں ایک سال میں چوراسی ہلاکتیں ہوئیں۔

عورتوں اور بچیوں پر تشدد

عورتوں اور بچیوں اور ان کے حقوق کے لیے سرگرم افراد کو بدستور گھر پر اور گھر سے باہر امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا رہا۔ حقوق انسانی تنظیموں نے ملک بھر میں عورتوں اور بچیوں کے خلاف تشدد کے ہزاروں واقعات نوٹ کیئے۔ ان میں اکثریت سب سے بڑے صوبے پنجاب سے تھے۔ واقعات میں قتل، جنسی تشدد اور گھریلو تشدد شامل تھا۔ یہ محض چھوٹا حصہ تھا کیونکہ بڑی تعداد میں واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

٭ مئی میں خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کی ایک شادی میں گانے اور تالی بجانے پر رپورٹس کے مطابق چار عورتوں کو ہلاک کرنے کی سزا سنائی گئی۔ سپریم کورٹ نے واقع کی جون میں تحقیقات کا حکم دیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ شاید عورتیں زندہ ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کی تحقیقات میں کافی کمزوریاں تھیں۔

٭ چار جولائی عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن فریدہ آفریدی کو پشاور میں اپنے گھر سے خیبر ایجنسی کام کے لیے روانہ پر گاڑی میں سوار افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ مقامی سول سوسائٹی گروپس کا کہنا ہے کہ انہیں عورتوں کے حقوق کے فروغ کے لیے کام کرنے پر ہلاک کیا گیا۔ حکام اس میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہچانے میں ناکام رہے۔

٭ پاکستانی طالبان نے نو اکتوبر کو پندرہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تصدیق کی۔ انہوں نے اسے عورتوں اور بچیوں کے لیے تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ اس کے جواب میں صدر نے بیس دسمبر کو ایک نئے قانون پر دستخظ کیے جو پانچ سے سولہ سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں کو مفت تعلیم دینے کی ضمانت دیتا ہے۔

سزائے موت

آٹھ ہزار تین سو افراد سزائے موت کے منتظر ہیں جن میں سے بعض کا انتظار بیس سے تیس سال طویل ہے۔ گزشتہ برس بھی دو سو بیالیس افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔ نومبر میں فوجی حکام نے محمد حسین کو سزائے موت دی جن پر اپنے ایک اعلی اور دو دیگر افسران کو ضلع اوکاڑہ، پنجاب میں ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ ان کو سزا فوجی سربراہ اور صدر کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد کئے جانے کے بعد دی گئی۔ یہ دو ہزار آٹھ کے بعد سے پاکستان میں پہلی سزائے موت تھی جو دی گئی۔ چونکہ اس پر عمل درآمد فوجی حکام نے کیا لہذا حکومت نے اپنے آپ کو اس فیصلے سے دور رکھنے کی کوشش کی لیکن کارکنوں کو خدشہ ہے کہ اس سے سزائے موت پر عمل درآمد کے دروازے دوبارہ کھل جائیں گے۔

حکومت نے جولائی میں پارلیمانی بل کے ایک مسودے پر غور شروع کیا جس کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل دورے\رپوٹس

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مندوبین نے فروری\مارچ، جولائی\اگست اور دسمبر میں پاکستان کے دورے کئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کنسلٹنٹس نے ملک میں مسلسل موجودگی رکھی۔

* Pakistan: Human rights and justice – the key to lasting security: Amnesty International submission to the UN Universal Periodic Review (ASA 33/003/2012)

پاکستان: حقوق انسانی اور انصاف – مستقل سکیورٹی کی کنجی: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے اقوام متحدہ کے یونیورسل پیراڈک ریویو

* Open Letter: Pakistan must resolve the crisis of enforced disappearances (ASA 33/012/2012)

کھلا خط: پاکستان جبری گمشدگیوں کے مسلہ کو حل کرے

* “The hands of cruelty”: Abuses by Armed Forces and Taliban in Pakistan’s tribal areas (ASA 33/019/2012)

”ظلم کے ہاتھ”: مسلح افواج اور طالبان کی جانب سے قبائلی علاقوں میں خلاف ورزیاں

Cómo puedes ayudar

AMNISTÍA INTERNACIONAL EN EL MUNDO